advertisement
advertisement

جو لوگ بچوں کی پیدائش کو روکتے ہیں وہ ایک بار ضرور پڑھ لیں

حضور اکرمﷺ کا فرمان جب آپ کو حضرت فاطمہ رِض کی خوشخبری دی گئی کہ ریحان (خوشبو کا نام) ہے جو میں سونگ رہا ہوں اور اس کا رزق اللہ پر ہے (یعنی آنے والا بچہ اپنے ساتھ اپنا رزق بھی لاتا ہے منصوبہ بندی والوں کو رزق کا خوف نہیں کرنا چاہئیے (العقد الفریدج) ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ایک مذہبی ادارے دارالعلوم دیو بند نے فتوٰی جاری کیا ہے جس کے مطابق مخصوص حالات میں مانع حمل تدابیر اختیار کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ فتوے کے مطابق اگر میاں بیوی راضی ہوں تو اس مقصد کے لیے کنڈوم استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے معروف عالم قاری عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ

اس طرح کے فتوے فرد کے ذاتی مسائل کو نظر میں رکھتے ہوئے جاری کیے جاتے ہیں۔ ’عام حالات میں مانع حمل کو ناپسند کیا جاتا ہے لیکن اگر بیوی کو کوئی پریشانی ہو یا پھر کوئی واضح منصوبہ ہو تو میاں بیوی باہمی رضا مندی کے ساتھ اسے اختیار کرسکتے ہیں۔‘قاری عثمان نے اس فتوے پر محتاط رد عمل کا اظہار کیا لیکن جمعیت علمائے ہند کے مولانا حمید نعمانی کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ میاں اور بیوی کا ہے اور اس بارے میں وہ جو مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں۔’طبّی پریشانی، یا بچوں میں وقفے کے لیے جدید مانع حمل ذرائع کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن یہ عارضی طور پر ہونا چاہیئے دائمی نہیں۔‘مولانا نعمانی کے مطابق نس بندی کرانا اس لیے جائز نہیں کہ وہ مستقل راستہ بند کرنے کے مترادف ہے۔ ’لیکن اگر کوئی مزید بچے نہیں چاہتا تو وہ عارضی طور پر اس پر عمل کرسکتا ہے۔ یہ ذاتی مسئلہ ہے اس پر فتوی دیکر کسی کو پابند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ معروف عالم دین مولانا وحید الدین خان کا کہنا ہے اسلام کے ابتدائی دور میں مانع حمل پر عمل ہوتا تھا اس لیے شریعت میں اس کی پوری اجازت ہے۔ ’اس معاملے میں کسی بھی طرح کی شرط قطعی درست نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق مانع حمل کا اختیار درست ہے اور ایک دو کے بعد نہیں بلکہ اگر کوئی شخص اولاد ہی نہ چاہتا ہو تو اسے بھی پوری آزادی ہے۔‘

لیکن جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اسلام میں بچوں پیدائش روکنے کے لیے مانع حمل کا استعمال غیراسلامی ہے۔ مولانا رفیق قاسمی کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگ مانع حمل پر عمل اس لیے کرتے ہیں کہ زیادہ اولاد سے روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوجائےگا: ’اسلامی نقطۂ نظر سے یہ جائز نہیں ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’اگر صحت کا کوئی مسئلہ ہو تو مانع حمل پر عمل درست ہے لیکن بچے کی پیدائش کو روکنا غیر اسلامی ہے کیونکہ یہ انسانوں کے اختیار کی بات نہیں ہے۔ مانع حمل سے متعلق دارالعوم دیوبند کا فتوٰی ان کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے جس سے ہندوستان میں ایک یہ نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا خاندانی منصوبہ بندی میں مانع حمل کے جدید ذرائع پر مسلمانوں کے لیے عمل کرنا درست ہے یا نہیں۔ ہندوستان میں عام تاثر یہ ہے کہ بچوں کی پیدائش روکنے کے لیے مانع حمل کا اختیار کرنا شرعی نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے لیکن ایک سروے کے مطابق مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس کے لیے کنڈوم یا مانع حمل ادویات استعمال کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*