advertisement

ہر بیماری کا علاج کتاب و سنت سے کریں

بسم الله الرحمن الرحيم آج جوعمل میں آپ کے ساتھ شئیر کرنے جا رہی ہوں وہ لاعلاج امراض کا علاج جو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ایک صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے زریعے سے نبی پاکﷺ نے یہ عمل امت کو بتایا انتہائی پاور فل عمل جس کی تصدیق حضرت محمدﷺ نے بہت ہی پیارے الفاظ کے ذریعہ سے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا عمل ہے کہ اگر کسی پہاڑ پر یہ پڑھ دیا جائے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو ایسا پاور فل عمل جو کہ پہاڑ پر پڑھا جائے اور وہ اپنی جگہ چھوڑ دے تو لاعلاج امراض انشاء اللہ تعالیٰ ایک دفعہ کرنے سے ہی وہ بیماریاں اللہ کے حکم سے ختم ہوجائیں گی

اس کی تصدیق حدیث کی ایک روایت سے ثابت ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک ایسے بیمار کے پاس ہوا جو سخت لاعلاج امراض میں مبتلا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی نے اس کے کان میں سورۃ مومنون کی درج زیل آیتیں پڑھیں جیسے ہی آپ نے اس کے کان میں یہ آیتیں پڑھیں اسی وقت ہوگیا وہ اسی وقت اچھا ہو گیا وہ آیتیں اَفَحَسِبْتُـمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَـتَعَالَى اللّـٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْـمِ وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَۙ لَا بُرْهَانَ لَـهٝ بِهٖۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٝ عِنْدَ رَبِّهٖ ۚ اِنَّهٝ لَا يُفْلِـحُ الْكَافِرُوْنَ وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَـمْ وَاَنْتَ خَيْـرُ الرَّاحِـمِيْنَ یہ سورۃ المومنون کی آیت نمبر 115 اور 118 ہے اس کا ترجمعہ جو ہے وہ یہ ہے سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آؤ گے۔ سو اللہ بہت ہی عالیشان ہے جو حقیقی بادشاہ ہے، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، عرش عظیم کا مالک ہے۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود کو پکارا، جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں، تو اس کا حساب اسی کے رب کے ہاں ہوگا، بے شک کافر نجات نہیں پائیں گے۔ اور کہو اے میرے رب معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ یہ ان آیات کا ترجمہ ہے

جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس مریض کے کان میں یہ یہ دعا پڑھی تو رسول اکرمﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عرض کیا کہ سورۃ المومنون کی آیتیں المومنون کی پڑھی ہیں رسولﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی یقین رکھنے والا ہو وہ یہ آیتیں پہاڑ پر پڑھ دے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے یہ قرطبی کی حدیث ہے مظہری بحوالہ معارف القرآن جلد نمبر 6 اور صفحہ نمبر 338 درج کی گئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اس کو اگر کسی پہاڑ پر پڑھا جائے تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ دے یہ انتہائی پاورفل الفاظ ہیں تو اس کو انتہائی یقین کے ساتھ جو بھی لاعلاج مریض کے کان میں یہ الفاظ پڑھے گا تو اللہ کے حکم سے اس کا جو مرض ہے اسی وقت ختم ہو جائے گا اکثر لوگ ہم سے گلہ کرتے ہیں کہ ہم وظائف کرتے ہیں لیکن ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے دوستو اگر آپ پورے یقین کے ساتھ کوئی بھی عمل وظیفہ کریں گے تو انشاء اللہ اس کا آپ کو فائدہ ضرور ملے گا لیکن اس میں مکمل یقین کے ساتھ عمل کرنا شرط ہے کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا عمل ہے آپ انتہائی یقین کے ساتھ اس عمل کو کرنا ہوگا اگر آپ کو یہ عمل اچھا لگا ہے تو اسے شئیر ظرورکریں جزاک اللہ

advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*