advertisement

امام مہدی کے ظہورکی علامات

اقبال ہوئی جس کی خودی پہلے بیدار وہی مہدی وہی آخر زمانی امام مہدی کا تصور مسلم امت میں صدیوں سے رائج ہے یہ وہ شخصیت ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق ان کا ظہور زمانہ آخر میں ہو گا اور انہیں کی سربراہی میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گی چونکہ امام مہدی وہ برگزیدہ شخصیت ہیں کہ جن کے جھنڈے تلے پوری امت اکھٹی ہوگی اور بلا کسی تفریق کے ان کی قیادت میں دشمنان مسلمان سے جنگ کرے گی اور پھر بھی یہی وہ شخصیت ہیں کہ جنہیں مسلمانوں کا خلیفہ چنا جائےگا شاید یہی وہ کشش ہے جس کے باعث وقتن فوقتن بہت

سے لوگ امام مہدی ہونے کا دعوی کرتے چلے آئے ہیں اور ایسا ہی ایک فتنہ رمضان کی ستائیسویں شب یعنی شب قدر میں بیت اللہ حرم شریف میں دیکھنے کو آیا حرم شریف میں اٹھنے والا یہ فتنہ کیا تھا اور کیوں ان چار مصری مردوں اور عورتوں کو گرفتار کر لیا گیا کہ تمام تفصیلات آپ کا آج بتائیں گے دوستو رمضان المبارک کی ستائیسویں کی با برکت شب کو یعنی شب قدر میں تمام دنیا سے آئے ہوئے مسلمان حرم شریف میں خانہ کعبہ کے سامنے عبادات میں مشغول تھے نوافل ادا کیے جا رہے تھے گڑگڑا کر اللہ تعالی سے دعائیں مانگی جا رہی تھی طواف کیا جا رہا تھا کہ اچانک دوران طواف مصر سے آئے ہوئے ایک شخص نے شور مچانا شروع کردیا کہ میں امام مہدی ہوں میں اپنی مہدیت کا اعلان کرتا ہوں اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرے ہاتھ پر آکر بیعت کریں جونہی اس شخص نے اپنی مہدیت کا اعلان کیا تو پاس کھڑے لوگ اس کو چپ کروانے کی کوشش میں لگ گئے مگر معاملہ مزید اس وقت بگڑا یہ فتنہ اس وقت زور پکڑتا نظر آیا جب اس کے ارد گرد بہت سی خواتین اکھٹی ہو گئی اور انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ یہ مصری شخص مہدی ہے خانہ کعبہ کے محافظوں نے جب صورت حال کو دیکھا تو انہوں نے فوری طور پر اس فتنے پر قابو پانے کے لیے ان سب کو گرفتار کیا اور تفتیش کےلئے نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا دوستو حرم شریف میں کھانا کعبہ کے پاس ایسے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں مگر اکثر اوقات یہ صرف تنہا لوگوں کی طرف سے دعویٰ کیا جاتا ہے یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پورا ایک گروہ حرم شریف میں اینٹر ہوا اس گروہ کے سربراہ نے اپنی مہدیت کا اعلان کیا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ امام مہدی ہے

اور مسلمانوں کو دعوت دینے لگا کہ اس کے ہاتھ پر بیعت کریں اور اس کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے وہ خواتین و حضرات پر مشتمل اپنے گرو کے اراکین بھی ساتھ لایا تھا اب یہ تو تفتیش کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اس شخص نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیوں کیا یہ شخص اکیلا ہے یا اس کے پیچھے پورا ایک نیٹ ورک ہے جو اس کے امام مہدی ہونے پر نہ صرف یقین کرتے ہیں بلکہ اس کا پرچار بھی کرتے ہیں اور اس بات کا تعین ہونا بھی ابھی باقی ہے کہ آخر کار اس فتنے کے پیچھے کیا سوچ کار فرما تھی تحقیقات کے بعد جوں ہی کوئی تفصیلات ہم تک پہنچی ہیں وہ آپ تک بھی ضرور پہنچائیں گے فلحال ہم آپ کو امام مہدی سے متعلق اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے ہیں مام مہدی کے ظہور کو قرب قیامت کی علامات میں سے بیان کیا گیا ہے، امام مہدی کے نام، نسب، ظہور کا زمانہ اور خصوصی علامات احادیث متواترہ سے ثابت ہیں، ان کے ظہور کا وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کے زمانہ سے کچھ پہلے ہوگا، ان کا نام محمد بن عبد اللہ اور ان کی والدہ کا نام آمنہ ہوگا، مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے پھر مکہ تشریف لائیں گے تو لوگ ان کو پہچان کر مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان بیعت کریں گے اور اپنا بادشاہ بنائیں گے۔ اس وقت غیب سے یہ آواز آئے گی: ھذا خلیفة اللہ المھدي فاسمعوا لہ وأطیعوا امام مہدی خلیفہ ہونے کے بعد روئے زمین کو عمل اور انصاف سے بھردیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام انھیں کے زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت مہدی کے مددگار ہوں گے۔ امام مہدی ملک شام جاکر دجال کے لشکر سے جہاد و قتال کریں گے اس وقت دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودیوں کا لشکر ہوگا۔ یہ سب علامات اوراس کے علاوہ اور بھی علامات احادیث متواترہ سے ثابت ہیں۔ امام مہدی کا ظہور کوئی ڈھکے چھپے انداز پر نہیں ہوگا بلکہ برملا ان کا شہرہ ہوگا اور احادیث میں بتلائی ہوئی علامات ان پر من وعن صادق آئیں گے کہ کسی قسم کا خفا باقی نہیں رہے گا،

advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*